یہاں تک کچھ بنیادی چیزوں پر کافی گفتگو ہو چکی ہے لہذا ہم آگے انرجی ہیلنگ اور ریکی وغیرہ کی جانب چلتے ہیں جو اس سیریز کا اصل موضوع ہے۔ یہ بنیادی چیزیں بہت اہم ہیں۔ یہ ہمیں ہیلنگ کے دوران مسئلہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی شخص کو شیر نظر آ رہا ہے اور وہ اس سے ڈر رہا ہے تو ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کے کراؤن اور تھرڈ آئی چکرے متاثر ہیں۔ یہ چکرے ممکن ہے کہ کسی بیماری سے متاثر ہوں، کسی جادو کا اثر ہو یا جنات وغیرہ کا مسئلہ ہو۔ ہم ہیلنگ کرتے وقت ان تینوں چیزوں کو ذہن میں رکھ کر ہیلنگ کریں گے۔ ہم نے اس کے ان چکروں کو باہر سے انرجی دے کر مضبوط کرنا ہوگا تاکہ وہ فوری اثر سے نکل جائیں اگر ہو۔ پھر اگر ٹھیک نہیں ہوا تو بیماری کا ماخذ تلاش کریں گے کہ وہ نفسیاتی بیماری ہے یا جسمانی (گیس وغیرہ)۔
ینگ اور یانگ
ہم نے گزشتہ گفتگو میں عرض کیا تھا کہ اس دنیا میں دو قسم کی انرجیز موجود ہیں جنہیں ہم مثبت اور منفی کہہ سکتے ہیں۔ انہیں چینی “ینگ” اور “یانگ” سے ذکر کرتے ہیں اور کنگ فو کے سمبل میں یہی دو ظاہر کی جاتی ہیں۔ یہ دونوں انرجیز مل کر ایک مکمل پازیٹو انرجی بناتی ہیں۔ یعنی جس طرح ایک ایٹم میں الیکٹران (منفی چارج) اور پروٹان (مثبت چارج) ہوتا ہے اسی طرح ایک مکمل پازیٹو انرجی میں ینگ اور یانگ دونوں کا مخصوص بیلنس ہوتا ہے۔ اسے مزید آسان انداز میں سمجھیے تو ایک گرم اور دوسری سرد انرجی ہوتی ہے جن کا بیلنس درکار ہوتا ہے۔ اس پازیٹو انرجی کے مقابلے میں ایک شدید نیگیٹو انرجی ہوتی ہے جس میں یہ بیلنس خراب ہوتا ہے۔پازیٹو انرجی کائنات میں تعمیری کام کرتی ہے جب کہ نیگیٹو انرجی تخریبی کام کرتی ہے۔
یہاں پازیٹو اور نیگیٹو انرجیز سمجھنے اور سمجھانے کے لیے میری اپنی اصطلاحات ہیں۔دونوں کا اچھا اور برا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان دو سے ہٹ کر ایک اور نیگیٹو انرجی ہوتی ہے جنہیں ہم جنات کہہ سکتے ہیں لیکن وہ انرجی سے بنی مخلوق ہیں۔ چونکہ وہ ہمارے الٹ ہیں اس لیے ہم انہیں “نیگیٹو” کہہ سکتے ہیں، ورنہ وہ ہمیشہ برے نہیں ہوتے۔ ان کے علاوہ شیاطین ہوتے ہیں جو خالص ڈارک انرجی ہوتے ہیں۔ انسان کے اصل مخالف یہ ہیں۔ ان چیزوں پر گفتگو اوپر گزر چکی ہے۔
انسان کا ڈھانچہ اس کے مادی جسم کے ساتھ روحانی یا انرجی اجسام پر بھی مشتمل ہے جس پر کافی تفصیلی گفتگو گزر چکی ہے۔ یہ انرجی اجسام ان پازیٹو اور نیگیٹو انرجیز کو وصول کرتے ہیں، بناتے ہیں، اپنے اندر سے گزارتے ہیں اور آگے چینل کرتے ہیں۔مثلاً آپ کسی انتہائی چڑچڑے شخص کے ساتھ کچھ وقت خاموش بیٹھے رہیں تب بھی آپ کی طبیعت میں اکتاہٹ سی پیدا ہو جائے گی۔ یہ اس لیے کہ چڑچڑاہٹ کی وجہ سے اس کا جسم نیگیٹو انرجی نہ صرف بنا رہا ہے بلکہ ہوا میں پھیلا بھی رہا ہے۔ البتہ آپ اسی صورت میں محسوس کریں گے جب آپ خود مثبت ہوں اور مثبت ماحول کے عادی ہوں۔
مثبت توانائی ہمارے جسم کا بنیادی حصہ ہے اور منفی توانائی اس میں تخریب کاری کرتی ہے۔ جب ہم بیمار ہوتے ہیں تو ہمارے جسم میں مثبت توانائی کم ہو جاتی ہے اور منفی توانائی اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ انرجی ہیلنگ سے منسلک لوگ عموماً یہ کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں کوئی بھی بیماری پہلے انرجی باڈی میں آتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ نیگیٹو انرجی انسانی انرجی باڈی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ نیگیٹو انرجی عموماً بیکٹیریا کی ہوتی ہے۔ چونکہ بیکٹیریا کوجسم کو متاثر کرنے میں وقت لگتا ہے اس لیے جسمانی علامات سے قبل ہی انرجی موجود ہوتی ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ بات ان ہی بیماریوں میں درست ہے جو بیکٹیریا یا کسی نیگیٹوٹی رکھنے والے جسم کی وجہ سے ہوں۔ اگر بیماری کسی زخم کی وجہ سے ہو تو ظاہر ہے کہ زخم پہلے مادی جسم پر لگے گا۔
بیماریوں کی اقسام
انسان کو لگنے والی بیماریوں کو اگر کیٹیگریز میں تقسیم کریں تو کچھ اس قسم کی بیماریاں بنتی ہیں:
اول: مادی اجسام سے پیدا شدہ بیماریاں، جیسے بیکٹیریا سے پیدا شدہ نزلہ یا وائرس سے پیدا شدہ کرونا
دوم: مثبت توانائی کی کمی سے پیدا شدہ بیماری جیسے کم ہمتی
سوم: کسی بیرونی توانائی کی وجہ سے پیدا شدہ بیماری جیسے نظر، سحر، جنات وغیرہ
عموماً چونکہ یہ اقسام ایک ساتھ مل کر بیماری یا تکلیف پیدا کرتی ہیں اس لیے ان میں کسی ایک کی تعیین کر کے حل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر ان اقسام کی الگ الگ بات کی جائے تو ریکی وغیرہ سے سب سے آسانی سے وہ بیماریاں حل ہوتی ہیں جو مثبت توانائی کی کمی سے پیدا ہوتی ہیں (یہ ایک عمومی لفظ ہے، آگے جا کر ہم اس کی گہرائی میں جائیں گے)۔ دوسرے نمبر پر وہ بیماریاں حل ہوتی ہیں جو بیرونی توانائی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں لیکن ان کے اسباب کو پہلے ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تیسرے نمبر پر مادی اجسام کی بیماریاں ہیں جو ختم ہونے میں کچھ وقت لیتی ہیں۔
ریکی
ریکی کیا ہے؟ “رے کی” کے دو الفاظ “کائناتی توانائی” کا معنی رکھتے ہیں اور مراد وہی مثبت توانائی ہوتی ہے جو ہمارے ارد گرد دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ چونکہ یہ تعمیری توانائی ہے لہذا یہ خرابیوں کو دور کرتی ہے اور بیماریوں کو کم کرتی ہے۔ریکی کوئی ایسا اکلوتا طریقہ علاج نہ ہے اور نہ پہلے تھا جس میں توانائی کو برائے علاج استعمال کیا جائے۔ درحقیقت جھاڑ پھونک کے تمام طریقے اور تعویذات یہی کام کرتے ہیں۔ البتہ اس میں انفرادیت اس کے طریقے کے حوالے سے تھی۔ اس میں ایک شخص اپنے جسم سے مثبت انرجی کو گزارتا تھا اور دوسرے شخص تک ہاتھوں کے ذریعے پہنچاتا تھا۔ یہ انرجی دوسرے شخص کے جسم میں موجود منفی انرجی کو ختم کرتی تھی اور مثبت انرجی میں اضافہ کرتی تھی جس سے اس کی بیماری اور زخم “ہیل (تندرست)” ہوتے تھے۔ اس میں ایک اور چیز یہ تھی کہ بذریعہ “ایٹونمنٹ” ایک ماہر کسی اور شخص کو اس ہیلنگ کا ماہر بنا سکتا تھا۔ ریکی کے دریافت ہونے کے بعد کئی انرجی ہیلنگ کے طریقوں میں یہ دونوں چیزیں استعمال کی جانے لگیں۔
ریکی کی ابتدا
ریکی کی کہانی کی ابتدا “ڈاکٹر میکاؤ یوسوئی” کے سفر سے ہوتی ہے جو ایک جاپانی ریسرچر تھے اور اس قوت کی تلاش میں تھے۔ ان کی تلاش کو دیکھتے ہوئے انہیں کسی بدھ سادھو نے “کوراما” پہاڑ کی چوٹی پر مراقبہ کرنے کا مشورہ دیا۔ “کوراما” جاپان کا ایک پہاڑ ہے جہاں آٹھویں صدی عیسوی میں ایک چینی بدھ سادھو نے ایک عبادت گاہ تعمیر کی تھی۔ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ اس پہاڑ میں ایک زبردست روحانی قوت ہے جسے حاصل کرنے کے لیے اس نے یہاں عبادت گاہ بنائی تھی۔ یہ فقط ایک حکایت ہے اور لازمی نہیں کہ درست بھی ہو، لیکن ڈاکٹر یوسوئی کو اس سادھو نے اسی پہاڑ کا بتایا تھا۔
ڈاکٹر یوسوئی نے اس پہاڑ پر ایک “کامی” کے پاس اکیس روز کا مراقبہ کیا۔ “کامی” مذہب “شنتو” میں ایسی ارواح یا توانائیوں کو کہتے ہیں جو زمین کی مختلف قوتوں کی نگرانی کرتی ہیں یا خود قوتوں کا ماخذ ہوتی ہیں۔ جس کامی کے پاس ڈاکٹر یوسوئی نے مراقبہ کیا وہ “ماؤسن” ہے جسے “شنتو” مذہب میں محبت اور توانائی کا ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر یوسوئی بدھ تھے، شنتو نہیں تھے لیکن ممکن ہے کہ انرجی یا توانائی کے اس ماخذ ہونے کی وجہ سے انہوں نے یہاں مراقبہ کیا ہو۔ بہرحال انہوں نے اکیس روز یہاں مراقبہ کیا۔ حکایات کے مطابق اکیسویں روز انہوں نے ایک روشنی دیکھی جس نے ان کے سامنے انرجی ہیلنگ کا مکمل سلسلہ کھول کر رکھ دیا اور انہوں نے کئی “سمبلز” بھی دیکھے۔
ڈاکٹر یوسوئی پہاڑ سے اترے اور انہوں نے ٹوکیو میں اپنا ایک مطب بنایا جہاں وہ لوگوں کا علاج کرنے لگے۔ لوگ ان کے پاس آتے، وہ انہیں ہاتھ رکھ کر ہیل کرتے اور لوگ تندرست ہو کر چلے جاتے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ان کا مطب ہروقت مریضوں سے بھرا رہتا تھا۔ یہاں ڈاکٹر یوسوئی نے شاگردوں کو “ایٹونمنٹ” دینا شروع کی۔
ایٹونمنٹ
“ایٹونمنٹ” ایک ایسا عمل ہے جس میں ریکی کا ایک ماسٹر لیول کا ماہر کسی شاگرد کے جسم سے پوری قوت سے انرجی گزارتا ہے۔ یہ انرجی اس کے جسم میں موجود بلاکیجز کو توڑ دیتی ہے اور اس کا جسم انرجی گزارنے کی کیفیت سے آشنا ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ شاگرد آئندہ کے لیے خود کو اور دوسروں کو ہیل کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ البتہ یہ ابتدا ہوتی ہے اور مکمل مہارت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ شاگرد مستقل ہیلنگ کرے۔ ایٹونمنٹ کے عمل کے بعد عموماً جسم میں موجود فاضل مواد، بیماریاں اور نفسیاتی مسائل وغیرہ اگلے چند دنوں میں نکلتے ہیں۔ ایٹونمنٹ لینے والا پازیٹو انرجی (جسے ہم روشنی کہہ سکتے ہیں) کا چینل بن جاتا ہے، یعنی وہ اسے منتقل کر سکتا ہے اور خود میں استعمال بھی کر سکتا ہے۔
ابتدا میں “ایٹونمنٹ” دینے کا عمل ایک بہت اہم عمل سمجھا جاتا تھا اور ریکی ماسٹرز اپنے طلبہ کو کافی جسمانی مجاہدات کروانے کے بعد ایٹونمنٹ دیا کرتے تھے۔ اسے ٹریڈیشنل (روایتی) طریقہ کہا جاتا ہے۔ تین چار نسلوں تک ایسے ہی چلا۔ پھر بعض ماہرین نے نان ٹریڈیشنل (غیر روایتی) طریقہ شروع کیا اور وہ بغیر کسی مجاہدے اور وقت گزارے لوگوں کو ایٹونمنٹ دینے لگے۔ جو لوگ ایٹونمنٹ لیتے وہ اپنے لیول کے مطابق خود کو اور دوسروں کو ہیل کر سکتے تھے۔ یوں ریکی کا سلسلہ رفتہ رفتہ عام ہوتا چلا گیا اور دنیا بھر میں لوگ سیکھنے، سکھانے اور ہیلنگ کے عمل سے منسلک ہونے لگے۔
ریکی انرجی ہیلنگ تو ہے ہی لیکن یہ ساتھ ہی انرجی کی دنیا سے کنکشن کا دروازہ بھی ہے۔ ایک شخص جو صبح و شام مادی دنیا میں رہتا ہے اور اسی کا عادی ہوتا ہے وہ اچانک انرجی کی دنیا سے واقف ہو جاتا ہے اور اس کا جسم ایک ماہر کی طرح انرجی کو منتقل کرنے لگتا ہے۔ جب وہ مستقل ہیلنگ شروع کرتا ہے تو گزرنے والی انرجی اس کے جسم اور زندگی میں تبدیلی لانا شروع کرتی ہے۔ پہلے اس کے جسم کی بلاکجز نکلتی ہیں اور پھر وہ رفتہ رفتہ نئی چیزوں سے آشنا ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں بعض لوگ آگے بڑھ کر ایسی چیزوں میں چلے جاتے ہیں جو گمراہ کن ہوتی ہیں اور یہ ان کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لیے کافی عرصے کے تجربے کے بعد میری رائے یہی ہے کہ ہر کسی کو ایڈوانس لیولز کی ایٹونمنٹ نہیں دینی چاہیے اور جسے لینی ہو اسے کچھ عرصہ تربیت دینی چاہیے یا اس سے “سیلف ہیلنگ” کروانی چاہیے۔