پندرہواں حصہ: سیلف ہیلنگ اور لیول ون ایٹونمنٹ

سیلف ہیلنگ

سیلف ہیلنگ اپنے آپ کو ہیل کرنے کو کہتے ہیں۔ اس میں کوئی شخص اپنے جسم کے مختلف مقامات کو انرجی پہنچاتا ہے تاکہ ان میں انرجی کی کمی دور ہو سکے اور اگر کوئی منفی توانائی موجود ہے تو وہ بھی ختم ہو جائے۔ سیلف ہیلنگ کے لیے ضروری ہے کہ کرنے والے نے کم سے کم پہلے لیول کی ایٹونمنٹ لی ہوئی ہو۔ ہم عمومی سیلف ہیلنگ میں اپنے ساتوں چکروں کی ہیلنگ کرتے ہیں۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:

پہلا مرحلہ: کسی پرسکون جگہ پر چار زانو (آلتی پالتی مار کر) بیٹھ جائیے اور کمر سیدھی کر لیجیے۔ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ اپنے روٹ چکرے پر رکھیے۔ یہ چکرا سرخ رنگ کا ہوتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی کے نیچے ہوتا ہے۔ چکروں کی تفصیل گزشتہ اقساط میں دیکھ لیجیے۔ آپ سامنے کی جانب سے ہاتھ رکھیں گے۔ ہاتھ ایسے رکھیے کہ ایک ہاتھ دوسرے کے اوپر ہو۔  آنکھیں بند کر لیجیے اور تصور کیجیے کہ اس جگہ پر “چکرا”یعنی ایک سرخ رنگ کی گول بال ہے۔ رنگ یاد نہ رہے تو بھی خیر ہے لیکن رنگ ذہن میں رکھنے سے فوکس بہتر ہوتا ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ کے ہاتھوں سے چمکدار سفید روشنی نکل رہی ہے اور اس چکرے میں جا رہی ہے۔ اپنے ذہن میں دہرایئے:

“میرے دونوں ہاتھ روٹ چکرے پر ہیں، میرے ہاتھوں سے انرجی نکل کر روٹ چکرے میں جا رہی ہے۔ روٹ چکرے سے نیگیٹو انرجی نکل کر میرے “اورا” سے باہر جا رہی ہے۔پازیٹو انرجی روٹ چکرے کو بھر رہی ہے۔ روٹ چکرا ہیل ہو رہا ہے۔ تمام فریکچرز اور خرابیاں دور ہو رہی ہیں۔ انرجیز اس میں اسٹیبل ہو رہی ہیں۔ یہ خود اسٹیبل ہو رہا ہے۔ روٹ چکرا “کلاک وائز” یعنی گھڑی کی طرح گول گھوم رہا ہے۔ اس کی رفتار تیز ہو رہی ہے، اور تیز، اور تیز، اور تیز، بے تحاشہ تیز ہو رہی ہے۔ اس سے انرجیز نکل کر میرے پورے جسم میں جا رہی ہیں۔ میرے جسم کا رواں رواں ان انرجیز سے بھر رہا ہے۔”

ان میں سے کوئی الفاظ یا ترتیب ضروری نہیں ہے۔ یہ سب فوکس میں مدد دیتے ہیں۔ جتنا آسانی سے ہو سکے وہ کر لیجیے۔ آہستہ آہستہ الفاظ یاد ہو جائیں گے۔ البتہ آخر میں چکرے کے گھومنے اور انرجی کے پورے جسم میں پہنچنے کا ذکر ضرور کیجیے گا۔ یاد رہے کہ انرجی ہیلنگ میں آپ کا فوکس اور تصور ہی سب کچھ ہے۔ انرجیز خیالات سے متحرک ہوتی ہیں۔

دوسرا مرحلہ: اب آنکھیں بند رکھے ہوئے اوپر والا ہاتھ اٹھائیں اور ناف کے نیچے “نول چکرے” پر رکھیں، پھر دوسرا ہاتھ اس کے اوپر رکھ دیں۔ اس کا رنگ اورنج ہے۔ وہی الفاظ دہرائیے۔ گھومنے میں تصور گھڑی کے مخالف یعنی اینٹی کلاک وائز کا کریں گے۔ اگر کسی اور جانب کا کر لیا تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تیسرا مرحلہ: اب آنکھیں بند رکھے ہوئے ہاتھ ایک ایک کر کے ناف کے اوپر “سولر پلیکسس” چکرے پر رکھیں۔ اس کا رنگ سنہری (گولڈن) ہے۔الفاظ دہرائیے۔ تصور کلاک وائز گھومنے کا ہوگا۔

چوتھا مرحلہ: اب آنکھیں بند رکھے ہوئے ہاتھ ایک ایک کر کے سینے میں “ہارٹ چکرے” پر رکھیے۔ اس کا رنگ سبز ہے اور تصور اینٹی کلاک وائز کا ہوگا۔ الفاظ دہرائیے۔

پانچواں مرحلہ: اب ہاتھ ایک ایک کر کے گلے میں موجود “تھروٹ چکرے” پر رکھنے ہیں۔ ایک ہاتھ گردن کے دائیں اور ایک بائیں جانب ہوگا۔ اس کا رنگ آسمانی ہے۔ تصور کلاک وائز کا ہوگا۔ الفاظ دہرائیے۔

چھٹا مرحلہ: اب ہاتھ ایک ایک کر کے سر میں پیشانی کے پیچھے موجود “تھرڈ آئی چکرے” پر رکھنے ہیں۔ ایک ہاتھ (کوئی سا بھی) پیشانی پر اس طرح ہوگا کہ اس کا نچلا حصہ ابرو پر آ رہا ہوگا اور دوسرا سر کے پیچھے ہوگا (اگر پیچھے لے جانے میں کوئی دقت نہ ہو، ورنہ پہلے ہاتھ کے اوپر رکھ لیں)۔ اس کا رنگ بینگنی (چمدار پرپل) ہے اور تصور اینٹی کلاک وائز کا ہوگا۔ الفاظ دہرائیے۔

ساتواں مرحلہ: اب ہاتھ ایک ایک کر کے سر پر رکھیں گے۔ چاہیں تو ایک دوسرے کے اوپر رکھ دیں اور چاہیں تو آگے پیچھے رکھ دیں۔ یہاں “کراؤن چکرا” ہے جس کا رنگ بنفشی مائل سفید ہے۔ تصور کلاک وائز کا ہوگا۔ الفاظ دہرائیے۔ آخر میں یہ بھی شامل کر دیجیے: “اس سے نکلنے والی انرجی تمام چکروں کو اسٹیبل کر رہی ہے۔”

آٹھواں مرحلہ: اب ہاتھ ایک ایک کر کے اٹھائیے اور رانوں پر یا جہاں بھی آسانی ہو رکھ لیجیے۔ اور تصور کے ساتھ ذہن میں الفاظ دہرائیے:

“روٹ چکرے سے انرجی اوپر نول چکرے میں آ رہی ہے اور اسے بھر رہی ہے۔ نول چکرے سے دونوں کی انرجی اوپر سولر پلیکسس چکرے میں آ رہی ہے اور اسے بھر رہی ہے۔ سولر پلیکسس سے تینوں کی انرجی اوپر ہارٹ چکرے میں آ رہی ہے اور اسے بھر رہی ہے۔ ہارٹ چکرے سے چاروں کی انرجی اوپر تھروٹ چکرے میں آ رہی ہے اور اسے بھر رہی ہے۔ تھروٹ چکرے سے پانچوں کی انرجی اوپر تھرڈ آئی چکرے میں آ رہی ہے اور اسے بھر رہی ہے۔ تھرڈ آئی چکرے سے تمام چھ کی انرجی اوپر کراؤن چکرے میں آ رہی ہے اور اسے بھر رہی ہے۔ کراؤن چکرا کسی پھول کی طرح کھل رہا ہے۔ اس سے انرجی کا فوارہ نکل رہا ہے اور میرے “اورا” میں برس رہا ہے۔ میرا اورا اس پازیٹو انرجی سے بھر رہا ہے۔ نیگیٹو انریجیز اورا سے باہر نکل رہی ہیں۔ اورا سیل (بند) ہو رہا ہے۔ اب اس سے نیگیٹو انرجی باہر جا سکتی ہیں لیکن اندر نہیں آ سکتیں۔ پازیٹو انرجیز دونوں جانب گزر سکتی ہیں۔”

جب تک دل چاہے اس برسات کو محسوس کریں۔ پھر آنکھیں کھول کر اٹھ جائیں۔ اسے “اورا چکرا ایکٹویشن”کہتے ہیں جسے میں نے ریکی ہیلنگ کے ساتھ ملایا ہے۔ اس سے آپ کے جسم کی انرجی مضبوط ہوتی ہے اور منفی توانائی دور ہو جاتی ہے۔ ریکی کی میری ایٹونمنٹ لینے سے پہلے آپ کو کم سے کم تین بار یہ ہیلنگ کرنی ہوگی۔ ویسے اگر آپ کو ایٹونمنٹ کے لیے کوئی نہ ملے اور آپ اسے مستقل بنیادوں پر کریں تو آپ کا جسم خود بھی ایٹونمنٹ لے سکتا ہے۔ یہ انرجیز ہمارے ارد گرد ہیں۔ وقت کے ساتھ ہمیں انہیں متحرک کرنا آ جاتا ہے۔

ایٹونمنٹ لیول ون

ریکی ہیلنگ کی میری اس ایٹونمنٹ کے لیے شرط یہ ہے کہ آپ کم سے کم تین بار سیلف ہیلنگ کی پریکٹس کر چکے ہوں۔ اس کے بعد یہ کیجیے:

  1. ایک کرسی لیجیے یا کسی پلنگ، چارپائی یا اونچی جگہ پر قبلہ  رخ ہو کر بیٹھ جائیں۔ اگر پلنگ یا چارپائی پر بیٹھیں تو آلتی پالتی مار کر بیٹھیے گا۔
  2. کمر مناسب حد تک سیدھی کر لیں اور دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر ایسے رکھ لیں کہ ہتھیلیوں کا رخ آسمان کی جانب ہو۔
  3. آنکھیں بند کر لیں۔
  4. ایک بار یہ الفاظ دہرائیں: “شروع کرتا ہوں اس ذات کے نام سے جو اس کائنات کو بنانے والا اور اسے سنبھالنے والا ہے۔ سب انرجی اور اس کی ہیلنگ کے طریقے اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اور اس کی قدرت کے تابع ہیں۔ میں اپنے اورا کو کھول رہا ہوں اور حاصل کر رہا ہوں لیول ون ریکی کی ایٹونمنٹ محمد اویس پراچہ سے۔”
  5. تصور کیجیے کہ ایک روشنی آپ کے سر کے اوپر سے داخل ہو رہی ہے اور تمام چکروں میں  جا رہی ہے۔ پھر یہ پورے جسم میں جا رہی ہے اور تمام رکاوٹیں اور بلاکجز توڑ رہی ہے۔ اس تصور پر فوکس کرنا کوئی خاص ضروری نہیں ہے۔
  6. پندرہ بیس منٹ بعد آنکھیں کھول لیں اور اٹھ جائیں۔ آپ کی ریکی لیول ون کی ایٹونمنٹ مکمل ہو چکی ہے۔
  7. میری جانب سے کوئی چیز یا کچھ بھی صدقہ کر دیجیے یا کسی جانور وغيرہ کو کھلا دیجیے۔

ریکی کی ایٹونمنٹ کے دوران لوگوں کے مختلف احساسات ہوتے ہیں۔ کسی کو گرمی محسوس ہوتی ہے، کسی کو ٹھنڈ، کسی کو جھٹکے سے محسوس ہوتے ہیں اور کسی کو کچھ بھی نہیں۔ ایٹونمنٹ بہر صورت ہو جائے گی۔ چونکہ شروع میں عموماً لوگوں کے احساسات کھلے نہیں ہوتے اس لیے انہیں ایٹونمنٹ کے بعد فوری طور پر کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن کچھ وقت کی پریکٹس کے بعد سمجھ آنے لگتا ہے۔

اب آپ نے کرنا یہ ہے کہ چالیس دن تک اپنی سیلف ہیلنگ کرنی ہے۔ اس دوران ممکن ہے کہ آپ کا جسم اپنے اندر سے خرابیاں اور گندگی نکالے اور آپ بیمار ہو جائیں، یا غصہ وغيرہ محسوس کریں۔ یہ سب سیلف ہیلنگ کے ساتھ ان شاء اللہ حل ہوتا جائے گا۔

اس ایٹونمنٹ میں دو سمبل “چوکورے” اور “سے ہی کی” شامل ہیں جن پر ہم ان شاء اللہ بعد میں گفتگو کریں گے۔ اس ایٹونمنٹ کے بعد آپ خود کو یا کسی کو بھی ہیل کر سکتے ہیں۔ آپ نے کام یہ کرنا ہے کہ دونوں ہاتھوں کو اس طرح ملا لیں جیسے دعا میں ملاتے ہیں اور متاثرہ جگہ پر رکھ دیں یا اس سے ایک ڈیڑھ انچ کے فاصلے پر رکھ لیں۔ اب تصور کریں کہ آپ کے ہاتھ سے انرجیز نکل کر اس جگہ میں جا رہی ہیں۔ تصور پر زیادہ زور دینا ضروری نہیں ہے۔ پانچ چھ منٹ ہاتھ رکھیں اور ہٹا لیں۔ زیادہ ضرورت ہو تو زیادہ وقت بھی رکھ سکتے ہیں۔

اسی طرح آپ پانی کی بوتل کو ہاتھوں میں پکڑ کر یہ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ کے ہاتھوں سے انرجی نکل کر اسے انرجائز کر رہی ہے۔ پانچ منٹ انرجائز کریں اور پھر ہاتھ ہٹا لیں۔ یہ پانی مختلف تکالیف و مسائل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کپڑے، برتن، بستر، کچھ بھی انرجائز کیا جا سکتا ہے۔ موم بتی بھی انرجائز کر کے بیمار کے کمرے میں جلائی جاتی ہے۔ اس کمرے کی لائٹ یا پنکھے کو بھی انرجائز کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ریکی ہیلنگ اس قدر طاقت ور ہے کہ تیز الرجی، جلن، شدید تکلیف، ایمرجنسی سچویشنز وغیرہ کو کنٹرول کر سکتی ہے۔ میں خود کر چکا ہوں۔ اس کے لیے آپ کو  پریکٹس میں وقت لگے گا۔ لیکن اس قوت کے باوجود یہ دوائی کا متبادل نہیں ہے۔ ایمرجنسی میں استعمال الگ بات ہے لیکن عام حالات میں اسے دوائی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ یہ بطور معاون کام کرے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn